وہ غریب شہر ہوں میں، جسے بے کسی نے مارا

Image

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کو لگ بھگ   ایکہفتہ گزر گیا۔ متاثرہ فیکٹری کے مالکان ضمانت قبل از گرفتاری کے بعد پولیس کی ”حفاظتی تحویل“ میں اپنے ”بیانات“ ریکارڈ کرارہے ہیں۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت رؤف صدیقی صاحب مستعفی ہو کر جا چکے ہیں۔ جن اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے وہ اپنے بچاؤ کے راستوں کی تلاش میں ہیں۔ متاثرین کے لئے، بلکہ یہ لکھوں کہ زندہ درگور لوگوں کے لئے مالی امداد کا بھی اعلان ہوا ہے لیکن یہ امداد کہاں ہے؟ کچھ پتہ نہیں ۔ فیکٹری کی عمارت کو مخدوش قرار دے دیا گیا ہے اور سیل بھی کردی گئی ہے۔ حادثے میں بچ جانے والے اب بے روزگار ہیں۔ ان کی آنکھیں اداس و ویران، چہرے غم سے ستے ہوئے، دلوں میں بے شمار اندیشے اور تفکرات سراٹھائے ہوئے، بس اسی سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ان کا قصور کیا ہے؟ ان کی بے کسی کا ذمہ دار کون ہے؟ امیر شہر کے غریب شہری تو تھے ہی انہیں غریب شہر کس نے کیا؟ وقت کا مرہم ان کی آنکھوں کے آنسو تو خشک کر دے گا لیکن ان کے دل میں اٹھنے والی کسک کیسے مٹے گی؟ ان کے اجڑے گھر اب کیسے آباد ہونگے؟ جس بچے کا باپ مرگیا اسے اب شفقت کہاں سے ملے گی؟ جس بچے کی ماں مر گئی اسے سینے سے کون لگائے گا؟ جس کا بھائی مر گیا اس کا بازو کون بنے گا؟ جس کا سہاگ اجڑ گیا اس کا مداوا کیسے ہوگا؟ کون ان کے بچوں کا سائبان ہوگا؟ ان کی زندگیوں میں اب رنگ کون بھرے گا؟ بچ جانے والے سب غریب لیکن سفید پوش گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن گھرانوں میں کوئی مرد نہیں رہا اس کے مکیں آنے والے وقت سے خوف زدہ ہیں۔ ابھی ان کے لب خاموش ہیں لیکن اگر انصاف نہیں ہوا تو یہ سانحہ ایک ایسی صورت اختیار کر سکتا ہے جو آنے والے وقت میں مختلف نوعیت کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ حکومتی ذمہ داروں کو ایسے گھرانوں کے لئے مستقل مالی امداد کا انتظام کرنا چاہئے جہاں کمانے والا نہیں رہا۔ بچ جانے والے مزدوروں کے لئے متبادل روزگار کا فوری انتظام کیا جائے۔ متاثرین کو صدمے سے باہر نکالنے کے لئے کونسلنگ کا سلسلہ فوری شروع کیا جائے تاکہ وہ کم سے کم وقت میں زندگی کے دھارے میں واپس آنے کے قابل ہو سکیں اور انہیں یہ احساس ہو کہ اس آفت میں وہ تنہا نہیں، معاشرے کے تمام لوگ ان کے دکھ میں شریک ہیں۔۔۔ کیا ایسا ہوگا؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s