اک ستم اور میری جاں ابھی جاں باقی ہے

Imageطالبان جتنا مارتے ہیں دل کمینہ اتنا ہی ان پر مرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں عمران خان مغرب زدہ سیکولر ہے۔ مگر عمران خان اپنے تین ارکانِ اسمبلی مروانے کے بعد بھی کہتے ہیں ’اک ستم اور میری جاں ابھی جاں باقی ہے۔۔۔‘

وہ کہتے ہیں نواز شریف امریکہ کا زرخرید غلام ہے۔ مگر شریفین کہتے ہیں کہ یہ تو ہمارے ناراض بھائی ہیں ان کی بات کا کیا برا منانا۔۔۔

مولانا فضل الرحمان کے جلسوں اور گھروں پر بم حملے ہوتے ہیں لیکن مولانا کہتے ہیں کہ نہیں نہیں یہ وہ نہیں ہوسکتے۔ یہ کام تو ہنود و یہود و نصاریٰ کا ہے۔

وہ کہتے ہیں پیپلز پارٹی اغیار کی ایجنٹ ہے۔ پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ جہاں رہو خوش رہو۔ بس ہمارا نشہ مت خراب کرو۔ ہمیں تو بے نظیر بھی یاد نہیں۔۔۔۔

وہ کہتے ہیں قاضی حسین احمد ایک وطن پرست سیکولر شخص تھا۔ مگر منور حسن کہتے ہیں کہ آپ میں اور ہم میں کیا فرق ہے۔ بس یہی نا کہ جو کام ہم آئین و سیاست کی حدود میں کر رہے ہیں اس کے لیے آپ نے بندوق اٹھا لی ہے۔ راستہ الگ سہی منزل تو ایک ہی ہے۔

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

وسعت اللہ خان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s