عورت کو زیادہ سر پر مت چڑھاو- وسعت اللہ خان

عورت کو زیادہ سر پر مت چڑھاو- وسعت اللہ خان

فرزانہ پروین یا فرزانہ اقبال جو بھی کہہ لیں، اس نے اسی طرح مرنا تھا سو مرگئی۔ بین الاقوامی برادری نے بھی چونکہ اس سفاکی کا نوٹس لے لیا لہٰذا مقامی مسخروں نے بھی پھرتیاں دکھانی شروع کر دیں۔
بس ایک آدھ دن کی بات ہے اس کے بعد میڈیا کا ڈبو کسی اور سفاک خبر کی ہڈی کے پیچھے دوڑ پڑے گا، سیکنڈ ہینڈ عقلی بیٹری پر چلنے والے روبوٹ حکمراں پھر واقعے کی رپورٹ طلب کرلیں گے اور پھر ایک اور۔

اس پوری سفاکی کے بیچ جو بلیک کامیڈی ہے وہ یہ ہے کہ وزیرِ اعظم نے لاہور ہائی کورٹ کے باہر پولیس کی موجودگی میں اینٹوں سے کچلی جانے والی فرزانہ کے سانحے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ہدایت فرمائی ہے کہ ایسے موثر اقدامات کیے جائیں کہ آئندہ اس طرح کے افسوس ناک واقعات نہ ہوں۔
یعنی کیا اقدامات کیے جائیں، کیا اینٹوں کی پیداوار پر پابندی لگا دی جائے تاکہ ان کا غلط استعمال نہ ہو؟ یا پھر لاہور ہائی کورٹ کے باہر یہ بورڈ نصب کردیا جائے کہ خبردار یہاں اینٹوں سے سر کچلنا منع ہے؟ یا پولیس کو تربیت دی جائے کہ جب کسی کا اس طرح سر کچلا جا رہا ہو تو اسے کیا نہیں کرنا چاہیے۔
پیارے بھولے میاں صاحب، ہمارا اور آپ کا خمیر جس تربیتی مٹی سے گوندھا گیا ہے اس کا تو پہلا سبق ہی یہی ہے کہ عورت پیروں کی جوتی ہے۔
عورت کو زیادہ سر پر مت چڑھاؤ۔ زن مرید مت بنو۔ عورت کم عقل ہے اس سے کبھی مشورہ نہ لینا۔ عورت کی حفاظت کرو۔ والدین ہو تو سسرال میں رہنے کا سلیقہ قرینہ سکھاؤ، بھائی ہو تو اس کی روزمرہ زندگی پر نگاہ رکھو۔ شوہر ہو تو چادر اور دیواری کی اہمیت جتاتے رہو۔

ویسے بھی لڑکیوں کا زیادہ لکھنا پڑھنا ٹھیک نہیں، ہاتھ سے نکل جاتی ہیں۔ بس بالغ ہوتے ہی شادی کر دو ورنہ آپ تو جانتے ہیں کہ جہاں بیری ہو وہاں پتھر تو آتے ہی ہیں۔ ان عورتوں کا رونا بسورنا تو قابلِ برداشت ہے مگر ہنسنا تو دور کی بات، مسکرانا بھی ناقابلِ معافی ہے۔ حتیٰ کہ ماں بھی قہقہہ لگائے تو پیٹ جایا ٹوک دے کہ اماں کیا کر رہی ہو، لوگ کیا سوچیں گے۔
کیا کہا برادری سے باہر کا رشتہ آ رہا ہے۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ آئندہ ایسی بات سوچنا بھی نہیں، زندہ دفن کردیں گے۔ او ٹھیک ہے اسلام میں تاکید ہوگی کہ لڑکی کی مرضی معلوم کرو۔ لیکن اسے دین دنیا کی الف ب کا کیا پتہ۔ یہ کیسے اپنے فیصلے خود کر سکتی ہے۔
اسلام نے تو اور بھی بہت کچھ تاکید کی ہے۔ کیا اس پر عمل ہوتا ہے؟ بس ہم نے جہاں شادی طے کر دی وہیں پر ہوگی۔ ہچر مچیر کی تو مار کے اسی صحن میں گاڑ ڈالیں گے۔ بیٹی آخر ہم تیرا برا کیوں چاہنے لگے بھلا۔
میاں صاحب آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ہمارے 80 فیصد لطیفےاور سو فیصد گالیاں عورت کے گرد گھومتی ہیں۔ مان جائے تو دیوی نہ مانے تو چھنال۔ کیا سارا سماج بچپن سے بڑھاپے تک اسی گھٹی پر نہیں پلتا۔ اور پھر یہی سماج ریاست، پنچایت، پولیس، کچہری میں بدل جاتا ہے۔
کیا بھرے جرگے میں عورت کی زندگی و موت، غلامی و آزادی کا فیصلہ کرنے والے کسی زبردست خان کو ملکی قانون کے تحت سزا ہوئی اور جب یہی زبردست خان پارلیمنٹ میں بیٹھ کر خواتین کے حقوق کی بحث میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتا ہے تو بس مزہ ہی آ جاتا ہے۔
اچھا تو اس پاک سرزمین میں اب تک کتنے غیرتی قاتل پھانسی پر لٹک چکے؟ کتنا آسان ہے میاں صاحب یہاں عورت کو مار ڈالنا۔اگر خود لہو کے اڑتے چھینٹے نہیں دیکھ سکتے تو کسی نامحرم سے اپنی ہی بہو، بیٹی، بہن یا ماں کو قتل کروا دیتے ہیں اور پھر قانونِ قصاص کو دیدہ دلیری سے موم کی ناک بنا کر مقتولہ کے وارث کی حیثیت سے قاتل کو معاف کر دیتے ہیں۔ خود بھی بچ گئے، خاندان کی ناک بھی اور ترکے کا حصہ بھی۔
ہر سال شہری حقوق کی زنانہ و مردانہ تنظیمیں جانے کیوں اعداد و شمار جمع کرتی رہتی ہیں کہ اس سال ڈیڑھ ہزار عورتیں غیرت کے نام پر قتل ہوگئیں۔ پچھلے سال ایک ہزار ہوگئی تھیں۔ اور اس سے پچھلے سال۔ کیا ان تنظیموں کو اس کے سوا کوئی کام نہیں۔
میاں صاحب آپ بالکل رنجیدہ نہ ہوں۔ یہ لاشیں تھوڑا ہی ہیں۔ بے غیرتی کی بھٹی میں ڈالی جانے والی ماتمی لکڑیاں ہیں تاکہ غیرت کا ابلتا کڑھاؤ خدانخواستہ ٹھنڈا نہ پڑ جائے۔ ورنہ پلے کیا رہ جائے گا۔ ہمارے پاس تو لباسِ جہالت کے سوا اور کوئی جوڑا بھی نہیں۔

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ۔
اے ماؤ بہنو بیٹیو دنیا کی عزت تم سے ہے۔ ہائے ہائے۔ واہ واہ، سبحان اللہ۔

BBC Urdu

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s