سینیئر کمیونسٹ رہنما سوبھو گیان چندانی کا انتقال

برصغیر کے سینیئر کمیونسٹ رہنما کامریڈ سوبھوگیان چندانی انتقال کر گئے ہیں، ان کی عمر 95 سال تھی۔

کامریڈ سوبھو گذشتہ خاصے عرصے سے بیمار تھے۔ پیر کی صبح ان کی طبعیت مزید خراب ہوگئی تھی جس کے بعد انھیں چانڈکا ہپستال منقل کیا جا رہا تھا کہ راستے ہی میں انتقال کر گئے۔

لاڑکانہ میں ان کی رہائش گاہ پر سیاسی کارکن، ادیب، دانشور اور شاعر پہنچ گئے ہیں۔ ان کی آخری رسومات منگل کو ادا کی جائیں گی۔ سندھی ادبی سنگت نے سات روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

سوبھوگیان چندانی کی پوری زندگی غریب اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے لڑتے اور جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور آمریت کو للکارتے ہوئے گزری جس کو روکنے اور دبانے کی ہر ممکنہ کوشش کی گئی۔

لاڑکانہ سے میٹرک پاس ایک طالب علم کی زندگی اس وقت بدلتی ہے جب وہ رابندرناتھ ٹیگور کے ادارے شانتی نکیتن میں داخل ہوتے ہیں۔

کامریڈ سوبھو نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ 1930 میں انھوں نے ٹیگور کو خط لکھا کہ ’میں ایک محنتی اور ایماندار لڑکا ہوں، آپ کے ادارے میں تعلیم کا خواہش مند ہوں، لیکن آپ کے پری ایڈمشن ٹیسٹ میں حصہ نہیں لے سکتا۔ نوجوان سوبھو کو چند روز بعد جواب آگیا کہ بغیر انٹرویو کے ہی ان کا داخلہ ہوگیا ہے۔‘

شانتی نکیتن میں وہ آرٹ کے علاوہ کلچرل فلاسفی کے طالب علم رہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ادارے سے فارغ تحصیل ہوتے وقت انھوں نے اپنے استاد کو کہا تھا کہ ’جب میں یہاں آیا تھا تو بچہ تھا اب جارہا ہوں تو انسان ہوں۔‘

اس ادارے کی تعلیمات کا اثر بتاتے ہوئے کامریڈ سوبھو کہتے تھے کہ انھوں نے ’کبھی جھوٹ نہیں بولا، کبھی الکوحل کا استعمال نہیں کیا اور خواتین کو بری نظر سے نہیں دیکھا۔‘

فن کی دنیا سے نکل کر انھوں نے 1942 میں سیاست میں قدم رکھا اور کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور وہاں بھی اپنا اختلاف برقرار رکھا۔

کامریڈ سوبھو کا کہنا تھا کہ 1943 میں پٹنہ میں کمیونسٹ پارٹی کی سٹوڈنٹس کانفرنس منعقد کی گئی جس میں بشمول ان کے سندھ سے 30-25 نوجوان شریک ہوئے تھے۔

ان دنوں ہٹلر سے جنگ کی وجہ سے مرکزی کمیونسٹ پارٹی نے برطانیہ کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا۔ انھیں بھی اس کی پیروی کرنے کو کہا گیا لیکن ان کے ساتھ سندھ کے نوجوانوں نے مخالفت کی اور گاندھی کی برطانیہ کے خلاف جدوجہد میں شامل ہو گئے۔

پاکستان کے قیام کے بعد کمیونسٹ قیادت زیادہ تر بھارت سے متاثر رہی اور کامریڈ سوبھو جیسے رہنماؤں نے بطور کارکن رہنا پسند کیا حالانکہ وہ اس وقت کراچی میں ریلوے سے لے کر کئی مزدور یونینوں کے سرکردہ رہنما تھے۔

پاکستان کے فوجی سٹیبشلمنٹ کے نزدیک وہ تین سروں والا اژدھا تھے

انھیں فیض احمد فیض، سجاد ظہیر، میجر اسحاق، شرافت علی، عزیز سلام بخاری اور حیدر بخش جتوئی جیسے کمیونسٹ اور ہاری تحریک کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ملا۔

کامریڈ سوبھو کہتے ہیں کہ 1958 کے انتخابات میں تقریباً 30 کمیونسٹوں کو قومی اسمبلی میں منتخب ہونے کا امکان تھا، جس میں مولانا بھاشانی کی عوامی لیکن اور کمیونسٹ پارٹی کے لوگ شامل نہیں ہوئے۔ صرف ایک کمیونسٹ میاں افتخار کامیاب ہوئے اور انھوں نے بھی حکمرانوں کے لیے سردرد پیدا کر دیا تھا۔

ہر آمریت کامریڈ سوبھو کے لیے مشکلات لائی۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ آٹھ اکتوبر 1958 کو جنرل ایوب خان نے مارشل لا نافذ کر دیا تو وہ اخبار لے کر جی ایم سید کے پاس پہنچ گئے اور اور کہا کہ کیا فوج تمھارے دروازے پر آئی ہے۔ جی ایم سید نے کہا نہیں اور انھیں مشورہ دیا کہ ’سوبھو یہاں سے بھاگ جاؤ اب یہ زمین تمہارے لیے محفوظ نہیں۔‘

سوبھو نے انھیں جواب دیا کہ ’میں کیوں یہاں سے جاؤں یہ میری دھرتی ہے، میں دھرتی کا بیٹا ہوں۔ 1947 کے وقت بھی نہیں گیا تو اب کیوں جاؤں۔‘

پاکستان کے فوجی سٹیبشلمنٹ کے نزدیک وہ تین سروں والا اژدھا تھے۔ کامریڈ سوبھو نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ایوب کے دور میں فوجی انھیں گرفتار کرنے گھر پہنچ گئے۔ ایک میجر نے انھیں کہا کہ تم تین حوالوں سے خطرناک ہو، ایک ہندو، دوسرے سندھی اور تیسرے کمیونسٹ، اس لیے تمھیں آزاد نہیں چھوڑا جا سکتا۔

لوگوں سے محبت اور سیاسی فکر سے کمٹمنٹ کی وجہ سے وہ شاہی قلعے کے بدنام زمانہ عقوبت خانے میں قید رہے، لیکن جبر و تشدد بھی انھیں اپنے کام سے باز نہیں رکھ سکے۔

لاڑکانہ سے تعلق اور سندھی ہونے کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو سے ان کے اختلافات رہے۔ وہ انھیں ڈکٹیٹر قرار دیتے تھے۔ کامریڈ سوبھو کا کہنا تھا کہ بھٹو خود کو انقلابی پیش کرتا تھا لیکن دراصل وہ پنجابی سٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ تھا۔

پاکستان کا سیاسی نظام انھیں ہضم نہیں کر پایا۔ سنہ 1988 کے انتخابات میں وہ اقلیتی نشستوں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بےنظیر بھٹو اور نواز شریف نے رابطہ کر کے انھیں پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی لیکن انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ پسماندہ اور مظلوم لوگوں کی حمایت اور حکومت کی مخالفت کریں گے۔

الیکشن کمیشن نے ان کی نشست پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا ایک بار پھر ایک مزدور رہنما شکست کھاگیا اور سرمایہ دار نے کامیابی حاصل کی۔

کامریڈ سوبھو ان چند لوگوں میں سے تھے جو آخر تک کمیونسٹ نظریے پر قائم رہے۔

زندگی کے آخری دنوں میں وہ سخت قوم پرست خیالات کے حامی ہو چکے تھے۔ سیاسی قید و بند انھیں کمزور نہیں کر پائے تھے لیکن نوجوان بیٹے کنہیا لال کی وفات کا صدمہ وہ برداشت نہیں کر سکے تھے۔

بشکریہ: ریاض سُہیل بی بی سی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s