آدھا سچ، آدھا جھوٹ نہیں چلے گا

بی بی سی: پاکستان میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور ممتاز وکیل عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ حکومت کو مدرسوں کے معاملے میں گومگوں کی پالسیی ترک کرنا پڑے گی کیونکہ لوگ اب آدھا جھوٹ آدھا سچ قبول نہیں کریں گے۔

لاہور میں اتوار کو دہشتگرد حملے کے تناظر میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ پنجاب میں بھی دینی مدارس اور دہشتگردی کی کارروائیوں میں تعلق موجود ہے۔

اگرچہ حکومتی وزرا کا اسرار ہے کہ مدرسوں میں عسکریت پسندی نہیں پائی جاتی، لیکن جب بھی کوئی دہشتگردی کی کارروائی ہوتی ہے اس کے تانے بانے مدرسوں سے جا ملتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت مدرسوں کے معاملے میں مبہم حکمت عملی ختم کرے کیونکہ اس سے لوگوں کا حکومت پر اعتبار ختم ہو رہا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا لاہور میں گلشن اقبال پارک میں حملے، اسی دن اسلام آباد میں ہزاروں افراد کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور سلمان تاثیر کے محافظ کی پھانسی کے درمیان کوئی تعلق پایا جاتا ہے، عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ یہ تعلق بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب کچھ ممتاز قادری کی پھانسی کا رد عمل ہے۔

یہ معاملہ کئی دنوں سے چل رہا تھا اور ابال بڑھ رہا تھا کیونکہ ممتاز قادری کے حامیوں کا کہنا تھا کہ کئی افراد کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے، لیکن ان مجرموں کی پھانسی پر عمل درآمد نہیں کیا گیا جبکہ ممتاز قادری کے معاملے میں سزا پر عمل درآمد میں کوئی دیر نہیں لگائی گئی۔


Image copyrightAP

عاصمہ جہانگر کے بقول ’اگرچہ لوگوں کی اکثریت اس فیصلے کو ایک منصفانہ فیصلہ قرار دیتی ہے، لیکن چونکہ مذہبی طبقات کے پاس احتجاج کا کوئی دوسرا بہانہ نہیں بچا تھا، اس لیے انھوں نے ممتاز قادری کی پھانسی کو جواز بنا کر احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین اس معاملے کو بنیاد بنا کر ریاستی اداروں کو چیلنج کر رہے ہیں اور انھیں کوئی روکنے والا نہیں۔

ان کا خیال تھا کہ اگر کوئی بھی دوسری سیاسی جماعت اس قسم کی ہنگامہ آرائی کرتی تو اسے سختی سے کچل دیا جاتا۔ لیکن ’چونکہ یہ مظاہرے وہ لوگ کر رہے ہیں جنھوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے، اس لیے لوگ ان پر تنقید کرتے ہوئے بھی خوفزدہ ہیں۔

دہشتگردی کے خلاف حکمت عملی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ حکومت کی پالیسی واضح نہیں ہے۔

ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ اچھے برے طالبان میں کوئی فرق نہیں کیا جا رہا، لیکن دوسری جانب حکومت کے اپنے ہی ادارے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ تمام دہشتگردوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں، لیکن ان لوگوں کو مکمل آزادی ملی ہوئی ہے جو مذہب کو استعمال کر کے لوگوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔

اگر حکومت واقعی دہشتگردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے میں سنجیدہ ہے تو انھیں مدرسوں پر سختی کرنا پڑے گی کیونکہ مدرسے انتہا پسندی کی ترویج کر رہے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسی صورتحال میں کہ جب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ایک حصہ اب بھی عسکریت پسندوں کی در پردہ مدد کر رہا ہے ، نواز شریف کیا کر سکتے ہیں، عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں اصل فیصلے فوج کرتی ہے اور فوج کے ہاں شفافیت نہیں پائی جاتی، اسی لیے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کا دایاں ہاتھ کیا کر رہا ہے اور بایاں ہاتھ کدھر جا رہا ہے۔

دہشتگردی ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور حکومت کے لیے ایک بہت بڑا امتحان ہے کیونکہ فوج ہر چیز کا کریڈٹ لے لیتی ہے، لیکن جب دہشتگردی کے خلاف حکومتی کارروائیوں کا ردعمل سامنے آتا ہے تو الزام سویلین حکومت پر لگا دیا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ضروری ہے کہ ’سویلین آئینی حکومت جاری رہے اور ہر فوجی آپریشن کی نگرانی سول حکومت کے پاس ہونی چاہیے کیونکہ آپریشن کی آڑ میں فوج طاقت اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے۔

اگر فوج طاقت اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے تو ملک میں ایک مرتبہ پھر بحران پیدا ہو جائے گا اور ہم اسی مقام پر کھڑے ہوں گے جہاں سے ہم نے آغاز کیا تھا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s