جامعہ کراچی میں “جنسی ہراسانی” کا ایک واقعہ

ویب ڈیسک: دو روز قبل جامعہ کراچی کے ایڈمن بلاک کے سامنے پلے کارڑز اٹھائے کچھ طلبہ نظر آئے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پاکستان اسٹڈی سینٹر،سال آخر یہ طلبہ دو وجوہات کے بنا پر مظاہرہ کر رہے ہیں۔

اول یہ کہ وہ اردو کے معلم کے طریقہ تدریس سے مطمئن نہیں اور دوم یہ کہ اسی استاد پر ایک خاتون ٹیچر کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام ہے۔ مظاہرین کے مطابق انھوں نے دو ہفتے قبل تحریری طور شعبے کے ڈائریکٹر سے شکایت کی تھی مگر انھوں نے کو ایکشن نہیں لیا۔ طلبہ کے مطابق گزشہ دو ہفتوں سے انھوں نے کلاسس کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے اور ڈائریکٹر کے پاس تین درخواستیں جمع کراچکے ہیں مگر ان کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لینے پر یہ ایڈمن کے سامنے مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔


نہایت افسوس کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ جامعہ میں یہ کوئی پہلا واقع نہیں۔ ماضی میں بھی استاد کی روپ دھارے ان بھیڑیوں کی جانب سے لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی معتدد خبریں اخباروں کی زینت بن چکی ہیں مگر ان بھیڑیوں کے خلاف کوئی سخت کاروائی نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کے واقعات پھر رونما ہورہے ہیں۔


نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جامعہ مہں موجود درجنوں نام نہاد طلبہ تنظیمیں
ان مسائل کے خلاف آواز نہیں اٹھاتی ہیں۔ فٹ بال، کرکٹ، بینرز، پوسٹرز اور مذہبی و مسلکی منجھن بیچنے کے لیے ایک دوسرے کے کا خون تک بہاتے ہیں مگر طلبہ کے حقوق کے لیے کبھی میدان میں نہیں آتے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s