مذہب، مشین اور مزودر

 

ناصر منصور: نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن

انسانی سماج کی ترقی میں مشین نے بنیادی کردار ادا کیا ۔ انسانی ذہن اور انسانی سماج کا ارتقا دراصل مشین ہی کی ترقی کا دوسرا نام ہے۔ انسان کو حیوانات سے ممتاز اور مہمیز کرنے میں مشین ہی بنیاد ہے ۔ یعنی انسان اور جانور میں فرق یہ ہے کہ انسان نے نہ صرف اپنے ہاتھوں اور جسم سے آزاد مشین بنائی بلکہ اس میں ہر لحظہ تبدیلی کے لیے بھی کوشاں رہا۔ جب کہ جانور ایسا کرنے پر قادر نہیں ۔انسان کی ابتدائی مشین فطرت سے حاصل کردہ پتھر اور لکڑی کا بھالا ہے جو وہ غذا کے حصول اور شکار کے لیے استعمال کرتا تھا ۔آج کے جدید ترین سپر سونک کمپیوٹر تک رسائی معلوم انسانی تاریخ میں مشین یعنی آلاتِ پیداوار میں مسلسل تبدیلی اور ترقی ہی کی تاریخ ہے۔انسان مچھلی کی طرح تیر نہیں سکتا لیکن اس نے مچھلی سے طاقتور بحری جہاز اور سالوں سمندر کی تہہ میں رہنے والی آب دوزیں تخلیق کیں۔ وہ چیتے اور گھوڑے جیسا برق رفتار نہ تھا لیکن اس نے ان سے کئی گناہ سبک رفتار ٹرینیں، کاریں اور سڑکوں پر دندناتی گاڑیاں تخلیق کیں۔ وہ پرندوں کی طرح فضا میں اڑان نہیں بھر سکتا مگر اس نے آسمانوں کا سینہ چیرنے والے ہوائی جہاز اور صدیوں کا سفر دنوں میں طے کرنے والے راکٹ بنا ڈالے ۔انسان نے فطرت کی طاقت کو مطیع بنا کر بنی نوع انسان کی ترقی کے نت نئے باب وا کیے ۔ یہ سب کچھ انسان نے مشین ہی کی ترقی کی بدولت حاصل کیا اور مزید کرتا رہے گا کہ انسانی حاصلات کا یہ سفر جاری ہے ۔مشین انسان کے لیے کارہائے زندگی کو آسان بنانے کا دوسرا نام ہونے کے ساتھ ساتھ پیداوار کے عمل کو سہل، تیز تر اور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کا بنیادی مقصد بھی لیے ہوئے ہے ۔ گو یا مشین دراصل انسان کی جمع شدہ محنت ہی ہے اور انسان کو محنت مشقت سے آزاد کرنے کا دوسرا نام بھی ہے ۔ البتہ اس سوال پر ہم کسی اور مقام پر بحث کریں گے کہ کیا مشین نے عام انسانوں کو حقیقتاََمحنت ومشقت سے آزاد کر دیا ہے ؟۔

مشین کا خالق محنت کش انسان ہے اور وہ اس میں مسلسل جدت بھی لا رہا ہے۔ مشین یا آلات کی ترقی سے انسانی رہن سہن میں ہی تبدیلی نہیں آتی بلکہ اس کے سوچنے، سمجھنے اور خیالات میں بھی غیر محسوس طریقے سے تبدیلی رونما ہوتی ہے۔گو جس تیزی سے آلات میں تبدیلی رونما ہوتی ہے اس تیزی سے انسانی ذہن تبدیل نہیں ہوتا ۔وہ پرانے خیالات اور طور طریقوں سے چھٹکارا حاصل کرنے میں عموماََ دیر کرتا ہے لیکن حتمی طور پر وہ دقیانوسیت سے جان چھڑانے میں ہی عافیت محسوس کرتا ہے، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ زراعت کا عمومی دارومدار فطرت یعنی موسم پر ہوتا ہے اور ہمارے جیسے سماجوں میں زراعی پیداور کے لیے اب تک ہل اور بیل جیسے قدیم پیداوری طریقہ کار کاصدیوں استعمال عام رہا ۔جس کی وجہ سے دیہی کسانوں و ہاریوں کے خیالات توہم پرستانہ پرستانہ ہوتے ہیں ۔جہاں وہ اچھی فصل کے لیے بارش اور موافق موسم کے لیے دعاگو ہوتے ہیں وہاں وہ اپنے بیل کی بیماری سے شفایابی کے لیے جادو ٹونے اور تعیز گنڈے کرتے نظر آتے ہیں۔جب وہ خود بیمار ہوتے ہیں تو بھی اسی طرح کی اعمال کرتے ہیں لیکن جونہی زراعت میں بیل کی جگہ ٹریکٹر اور دیگر مشینری استعمال ہونا شروع ہوتی ہے تو یہی کسان ہاری ٹریکٹر، تھریشر وغیرہ کی خرابی کی صورت میں مرمت کے لیے سیدھامستری ، مکینک کے پاس جائے گا نہ کہ پنڈت، پروہت ، ملا یا پیر وغیرہ کے پاس ۔لیکن پیر، پروہت اور پنڈت آج بھی کسانوں کو پرانے خیالات پر قائم رکھنے کے لیے نت نئے جتن کرتا دکھائی دیتا ہے۔

یہی کچھ ہم زیادہ بہتر انداز میں فیکٹریوں ، کارخانوں میں دیکھتے ہیں جہاں جدید ترین مشین پیداوار کے عمل میں استعمال ہوتی ہے اور عام محنت کش مشینوں کی علت کو سمجھ کر ان کا مکمل طور پر ماہر بن جاتا ہے اور مشین کو چلانے ،مرمت کرنے کے لیے سیدھا اور سائنسی طریقہ استعمال کرتا ہے ۔ لیکن ہمارے صنعتی مزدوروں کی بڑی تعداد کا تعلق بنیادی طور پر زرعی معاشرے سے رہا ہے سو وہ روزمرہ کی زندگی میں نئے خیالات اور سوچ کو اپنانے میں سست روی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن پھر بھی کسانوں کی نسبت وہ تیزی سے ترقی پسند خیالات کو اپنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔

مشین پر کام کرنے والا محنت کش چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقہ، نسل یا قوم سے ہو ایک ہی طریقے سے مشین کو آپریٹ کرے گا ۔ ایک ہی طریقے سے پیداوار حاصل کرے گا۔ مشین پر اجرت کے لیے کام کرنے والے مزدور سے اس مذہب یا فرقہ کی بنیادپر نہیں بلکہ ہنر کی بنیاد پر کام لیا جاتا ہے۔ اس کے لیے کسی کے حاجی، نمازی ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ مشین سے تعلق ہنر کی بنیاد پر بنتا ہے اور یہی تعلق انسان کو معاشرے کے سب سے اہم طبقے یعنی مزدور طبقے کا جز لانیفک بنا دیتا ہے۔مزدور کہیں کا بھی ہو وہ عمومی طور پر اپنی عادات ، فطرت اور خصلت میں یکسانیت رکھتا ہے ۔ وہ ملکر پیداور کے عمل میں حصہ لیتا ہے ، زندگی کی ایک جیسی مشکلات سے نبرد آزما ہوتا ہے اور پیداواری عمل کے نتیجے میں متحد ہو کر حقوق حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنے مشترکہ حقیقی دشمن کی پہچان حاصل کرتا ہے۔ کیونکہ وہ عددی طور پر اپنے دشمن پر حاوی ہوتا ہے اس لیے اس کی اصل پہچان یعنی ’’محنت کش یا مزودر‘‘ ہونے کے ادراک کو دھندلا نے کے لیے اسے عقائد ، زبان ، نسل کی بنیاد پر کمزور کیا جاتا ہے۔ اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ سرمایہ دار مزدوروں کی یکجہتی کو توڑنے کے لیے عقائد کو مذہبی جماعتوں اور دیگر ذرائعِ ابلاغ کے ذریعے بے دریغ استعمال کرتا ہے۔کیا ہم نے کبھی دیکھا ہے کہ فیکٹری مالکان نے اپنے ہم عقیدہ محنت کشوں کو دیگرمزدوروں کی نسبت زیادہ حقوق یا مراعات دی ہوں ۔ ہمارے پاس سینکڑوں ایسی مثالیں ہیں جہاں ہم عقیدہ ، ایک فرقے سے تعلق رکھنے کے باوجود مزدوروں کو صرف اس وجہ سے قید وبند ، بے روزگاری اور دہشت گردی جیسے الزامات کے تحت مقدمات بھگتنے پڑے کہ انھوں نے یونین سازی جیسے بنیادی حق کی کوشش کی تھی ۔ ایسا ہی ایک واقعہ سائیٹ ایریا کراچی کی مقامی دواساز کمپنی میں پیش آیا جہاں کے متقی ، پرہیز گار اور دین دار مالکان جو کہ ایک مذہبی جہادی تنظیم کے سرگرم رکن بھی ہیں ،نے نہایت ہی دین دار ، نمازی اور ہم مسلک مزدوروں کو رمضان کے مہینے میں دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا اور باقی مزدوروں کو ہراساں کرنے کے لیے لشکر کے مسلح جتھوں کو فیکٹری میں تعینات کر دیا ۔مزدوروں کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ یونین بنانے کا جرم کر بیٹھے تھے۔ دین داروں کی یہ فیکٹری ان بین الاقوامی دواساز کمپنیوں کے لیے بھی مال بناتی ہے جن کے مالکان مسیحی اور یہودی ہیں جب کہ یہ چندہ ایسی مذہبی تنظیم اور لشکر کو دیتے ہیں جو اپنے تئیں سماج کو یہود،نصاریٰ اور ہنود کی سازشوں سے ’’ پاک‘‘ کرنا چاہتی ہے۔

اسی دوا ساز کمپنی پر ہی قصہ ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس ملک کے بڑے بڑے صنعتی ادارے خصوصاََ ٹیکسٹائل ،گارمنٹس اور ریڈی میڈ ملبوسات کے کارخانے جو کہ بین الاقوامی برانڈ کے لیے اعلیٰ کوالٹی کا مال تیار کرتے ہیں وہاں مشینوں پر کام کرنے والے کروڑوں مزدور ،محنت کش جدید دور کے غلاموں کی صورت شب وروز کام کرتے ہیں۔جہاں قانون نامی چڑیا پَر بھی نہیں مار سکتی ۔یہ ادارے ایسے مذہبی گروہوں ، جماعتوں اور مدارس کو زکواۃ ، خیرات اور چندہ دیتے ہیں جو سماج میں نفرت، فرقہ واریت اور قتل وغارت گری کو فروغ دینے کا باعث بنے ہوئے ہیں اور اس نفرت کی بھٹی میں ایندھن کے طور پر مختلف عقائد اور مذاہب سے تعلق رکھنے والا عام مزدوروں ہی استعمال ہوتا ہے۔ لاہور میں ہونے والی دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والوں میں مسیحی اور کرسچن سب شامل تھے۔یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ یہ صنعتی گھرانے منافع کمانے کے لیے یہودیوں، مسیحیوں ، ہندوؤں سے کاروبار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کریں گے لیکن ان سے کاروبار کے ذریعے کمائی ہوئی دولت سے سماج میں عقائد کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کو اپنا اولین مقصد اس لیے سمجھتے ہیں کہ محنت کش طبقے کی اصل پہچان کو ان سے چرا لیا جائے ۔یہ ادارے مذہبی تہواروں ، عبادت گاہوں کی تعمیر وتوسیع کے لیے تو تجوریوں کے منہ کھول دیتے ہیں لیکن اپنے اپنے اداروں میں مزدوروں کو کم از کم اجرت دینے سے منکر ہیں اور یونین بنانے کے عمل کو طاقت سے کچل دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔اور انھوں نے کارگاہوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو غلام داری نظام سے سے بھی بدتر حالات میں مجبور کر رکھا ہے۔

یہ کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے کہ مذہبی و فرقہ وارانہ تنظیمیں ہوں یا مذہبی جماعتیں یا پھر دہشت گرد لشکر، یہ سب محنت کشوں سے روا رکھے جانے والے وحشیانہ سلوک پر ہمیشہ خاموش رہے ہیں ۔ ان کے مل مالکان سے ظاہراور کبھی باطن خصوصی مراسم رہے ہیں اور ا ن کی نمود میں مل مالکان کے روپے پیسے نے کلیدی کرادر اد کیا ۔ہمیں معلوم ہے کہ ایک بڑے جید مبلغ جن کی تقاریرپر مبنی آڈیو کیسٹس یہ صنعت کار مفت تقسیم کراتے ہیں ۔یہ مبلغ مذہبی تبلیغ کے ذریعے عام انسانوں کو ریاکاری، بد دیانتی اور برائی سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہے مگر سیاست کے پلے بوئے کے ساتھ ڈنر کرتا ہے اور غیر ملک کرنسی کے ڈان کے گھر پر رمضان میں تراویح پڑھانے کو افضل ترین تصور کرتا ہے ۔یہ اپنے نام کے اعتبار سے صبح کا ستارہ یعنی طارق اور حسین وجمیل ہے لیکن اس کے منہ سے کبھی مزدور طبقے کے ذلت میں ڈوبے شب وروز کے ذمہ دار سرمایہ داروں کے منافقانہ استحصالی کردار پر ایک لفظ بھی سننے کو نہیں ملے گا۔ جب کہ یہی صورتحال آپ کو مدینہ جیسے مقدس نام پر چلنے والے فرقہ وارانہ ٹی وی چینل پر نظر آئے گی جو سرمایہ داروں کے چندے پر چل رہا ہے جہاں مفتی حضرات ہر مسئلے پر سیر حاصل گفتگو کرتے نظر آئیں گے مگر فیکٹریوں کارخانوں میں جل مرنے والے مزدوروں اور ان سے روا رکھنے جانے والے اذیت ناک سلوک پر بات کرتے ان کی زبان میں چھالے پڑ جاتے ہیں ۔

پچھلے کچھ عرصے ہم نے تواتر کے ساتھ ایک ایسے مذہبی مبلغ بھی دیکھا جو کہ ماضی کا معروف ’’پاپ سنگر‘‘ تھا وہ نہایت دھیمے لہجے میں سماج میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی ، دین سے دوری پر لمبے لیکچر دیتا نظر آتاتھا وہ خود ملبوسات کے ایک برانڈ کا مالک ہے جس کی ملک میں خوب جے جے کار ہے۔ جہاں یہ ملبوسات تیار ہوتے ہیں وہاں محنت کش لیبر قوانین کے تحت حاصل بنیادی حق یعنی یونین سازی ، کم از کم تنخواہ ، سوشل سیکورٹی وغیرہ سے نہ صرف محروم ہیں بلکہ ایسا سوچنے پر ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ یہ ایرانی ، عربی آمیزش زدہ نام والا شخص جو مغرب کی برائیاں کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا وہ برا وقت پڑنے پر جان بچانے کے لیے سعودی عرب جانے کی بجائے انگلستان میں پناہ لیتا ہے۔

سرمایہ داری کی کوئی اخلاقیات اور مذہب نہیں ہوتا اس کا مذہب اور اخلاقیات صرف اور صرف منافع اور مزدوروں کی محنت کی لوٹ ہے۔اپنی لوٹ مار اور استحصال کو چھپانے ، منافع کے لیے مارا ماری اور محنت کشوں کے غیض وغضب سے بچنے کے لیے مذہب اور عقائد کو صرف مقامی سرمایہ دار ہی استعمال نہیں کرتے بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی مذہبی عقائد کی آڑ میں دونوں ہاتھوں سے منافع بٹور رہی ہیں ۔ کوکا کولا ،پیپسی ، میکڈونلڈ، نیسلے، اولپر، ٹیلی نار ، موبی لنک ،زونگ کے ہمارے مذہبی تہواروں ، عیدین ، رمضان اور حج کے مہینوں میں جاری ہونے والے اشتہارات ان کی منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔اتنا ہی نہیں بلکہ یہ اور ان جیسے ادارے کرسمس ، ہولی ،دیوالی جیسے مذہبی تہواروں کے موقع پر بھی عقائد کی آڑ میں اپنی مصنوعات بیچتے بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں۔

اس سارے گورکھ دھندے میں دکھائی دیتا ہے کہ مشین کی مسلسل ترقی جو کہ انسان کو مشقت اور محنت سے قدرے آزادی دلانے کا موجب بن سکتی تھی اس نے مشینوں کے تخلیق کار یعنی محنت کش انسان کو مزید غلام اور زیادہ مشقت کی جانب دھکیل دیا ہے ۔مشینوں کی آماجگاہ یعنی فیکٹریاں جہاں اربوں محنت کش روزانہ کھربوں کی پیداوار کرتے ہیں لیکن دنیا میں بھوک ،افلاس بیماری ،بے روزگاری ،قتل وغارت اور جنگوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ دنیا بھر کی طرح ہمارے سماج میں بھی کروڑوں انسانوں کی محنت سے فیکٹریوں ، کارخانوں کی تعداد اور امارات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ،پیداوار میں بے تحاشا اضافے کے لیے جدید سے جدید مشین آ رہی ہے لیکن محنت کشوں کے اوقات کار میں کوئی کمی واقع نہیں پورہی۔ محنت کرنے والے انسان اکیسویں صدی میں بھی بنیادی انسانی ضرورتوں سے محروم ہیں۔ جہاں سماج میں مالداروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے وہاں مذہب اور عقائد کے مبلغین کی تعداد میں بھی بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے ،فرقہ وارانہ نفرتیں عروج پر ہیں ، لشکر اور مسلح گروہ دندناتے پھر رہے ہیں ، ذرائع ابلاغ ایسے گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ان کے ترجمان بنے بیٹھے ہیں اور محنت کشوں کی آواز کہیں بھی جگہ پانے میں ناکام ہو چکی ہے ۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ محنت کش انسان خود اپنی پہچان سے محروم کر دیا گیا ہے اور اپنے نئے اور ترقی پسند خیالات کی بنیاد پر سماج میں اپنا وجود ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔مزدور کو اس امر کا ادراک کرنا ہوگا کہ مشین یعنی آلات پیداوار کی تخلیق اور پھر اس پر پیداواری عمل اشتراکی یعنی مشترکہ ہوتا ہے لیکن مشین کی ملکیت انفرادی یعنی نجی ہونے کی وجہ سے اس کی پیداوار سے حاصل کی گئی دولت انفرادی ہاتھوں میں چلی جاتی ہے اور محنت کرنے والا اپنے حق سے محروم ہوجاتا ہے جب کہ مشترکہ محنت کی بنیادپر حاصل ہونے والی دولت انفرادی ہاتھوں میں آنے سے ایسی دولت سے سرمایہ دار مزید مشین حاصل کرتا ہے اور مزید دولت کماتا ہے ۔یعنی یہ شیطانی چکر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا ۔

اسی شیطانی چکر کو قائم رکھنے اور اس کا تقدس بحال رکھنے کے لیے سرمایہ دار اور اس کے حواری عقائد اور مذہب کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔سرمایہ دار محنت کش کو جدید مشین کے استعمال کے بارے میں جانکاری دینے میں نہایت تیزی دکھاتا ہے لیکن اس جدید مشین کے ساتھ جدید اور نئے خیالات کو روکنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور بھی لگاتا ہے اور عقائد کی آڑ میں مزدور طبقے کی انقلابی طبقاتی پہچان یعنی ’’ مزدور‘‘ ہونے کو دھندلا کر کے اسے مذہب ، فرقے میں تقسیم کر دیاتا ہے ۔ مزدور طبقے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا تاریخی وانقلابی فریضے کا ادراک کرتے ہوئے جہاں جدید مشین کے رموز جان جاتا ہے وہاں اس کے ساتھ آنے والے نئے خیالات کو بھی اپنانے کی شعوری کوشش کرے اور ہر اس خیال اور سوچ کو رد کرے جو اس کے مزدودر تشخص کو دھندلا دے۔ مزودر ہونے کا شعوری احساس ہی وہ دو دھاری تلوار ہے جس سے سرمائے کے جبر کو کاٹا اور تقسیم کرنے والے نظریات کو شکست دی جا سکتی ہے۔ سرمایہ دارکی کوشش یہی رہتی ہے کہ مزودر طبقے کے اسی ہتھیار کو کند کرکے رکھ دے۔

ناصر منصور نیشنل ٹریڈ ہونین فیڈریشن پاکستان کے رہنماء ہیں اور یہ مکالہ ان کے سوشل میڈیا اکاونٹ سے لیا گیا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s