کشمیر: جہاد اور ترقی پسند تحریک – آفتاب آحمد |The Dissent

ویب ڈیسک: کشمیر سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند رہنماء آفتاب آحمد نے سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ سن ننانوے میں اسلام آباد سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ کے ساتھ کشمیرسے بطور رپوٹر کام کرنے کا موقعہ ملا .روزنامہ کے اس وقت کے مدیر آجکل معروف ٹی وی اینکربھی ہیں.وہ اخبار اس وقت جہاد کشمیر کا بڑا حامی اور ترجمان تھا اور مدیر صاحب اکثر جہاد کانفرنسوں کے مہمان خصوصی ہوتے تھے.ہمارے اس اخبارمیں ہر دوسرے دن یہ لیڈ یا سپر لیڈ ہوتی تھی .پاک فوج کاجوابی حملہ درجنوں پوسٹیں تباہ سینکڑوں بھارتی فوجی جنم واصل,پھر مجاہدین کا کیمپ پر حملہ سیکڑون بھارتی فوجی جنم واصل,اگر اس عرصے کے اعداد و شمار لیے جائیں تو بھارت کی پوسٹیں اور فوج دو مرتبہ ختم ہو جانی چاہیے تھی.یہی کچھ ہندوستانی میڈیا بھی کرتا تھا.یعنی حکمران طبقہ کیسے میڈیا کو جنونیت کو استعمال کرتا تھا.


افغان اور کشمیر جہاد اگر واقعی جہاد ہے تو پھر یہ جہادی لیڈر کیوں نہیں شہید ہوتے ان کے بچے کیوں نہیں شہید ہوتے – آفتاب آحمد


 اس سارے کھیل کو جب یہاں ہم نے تحریروں,تقریروں اور جلسے جلوسوں میں بے نقاب کرنا شروع کیا کہ اس کھیل کا فائدہ صرف جنرل اور ملاں اٹھا رہے ہیں .عوام جو دو وقت کی روٹی سے محروم ہے وہ محروم ہی رہے گی تو حضرت مولانا نے ہر جمعہ میں ہمارے خلاف کفرکے فتوے ,اتھیسٹ,ایجنٹ کے سرٹیفکیٹ بانٹے .ہمیں اچھوت بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی . ہمیں یاد ہے کہ نان الیون کے واقعہ سے کچھ دن قبل ہم نے ایک پمفلٹ تقسیم کیا عوام میں .جس میں عوام سے اپیل کی گئی تھی کہ اپنے بچوں کو بچاو حکمرانوں کے مفادات کی بھینٹ مت چڑھاءو .اس کا عنوان جہاں تک یاد پڑتا ہے, یہ گھر ہمارا ہے ہمیں ہی بے گھر مت کرو تھا.اس میں ہم نے سوالات اٹھاے تھے کہ افغان اور کشمیر جہاد اگر واقعی جہاد ہے تو پھر یہ جہادی لیڈر کیوں نہیں شہید ہوتے ان کے بچے کیوں نہیں شہید ہوتے .ان کے رہن سہن طرز زندگی ان کے وسائل کو سوال بناتے ہوے اس پمفلٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ مذہب کا غلط استعمال کررہے ہیں .جس کے نتیجے میں غریب کا بچہ شہید ہورہا ہے اور یہ منافع کما رہے ہیں.جان کی قربانی دینے والے کے احساسات اور جذبات پر کوئی شک نہیں وہ معصوم ہے .وہ دیانتداری سےجو سمجھ وہی کررہا ہے .اورحکمران جو شہادتوں کی مبارک بادیں دے رہے ہیں.جب ان کا مفاد بدلا تو یہ انہی جہاد کے دلہوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹیں گیے اور ان کو اللہ کی راہ میں لڑنے والوں کے بجاے دہشت گرد قرار دیں گے.اس پمفلٹ کے بعدحضرت مولانا نے ہمیں اسلام اور پاکستان دشمن قرار دے کر فتوے بانٹے.لیکن کچھ ہی دنوں بعد جب نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا تو جہاد کے رہبر جنرل پرویز مشرف کو وہی مقدس جہاد جس کے نتیجے میں افغانستان اور کشمیر تباہ ہوچکے تھے دہشت گردی لگنے لگا اور پاکستان کے حکمران روشن خیالی کی باتیں کرنے لگے اور جہاد ان کو بنیاد پرستی لگنے لگا.کیونکہ پہلے جہاد کے نام پر ڈالر ملتے تھےاب روشن خیالی کے نام کا نیا سامراجی منصوبہ تھا.سو ملاں اور جرنیل دیکھتے دیکھتے کارپوریٹ سیکٹر بن گئے .روشن خیالی کے منصوبے کے بعد جب حضرت مولانا کو روزانہ حساس اداروں نے تنگ کرنا شروع کیا تو ایک دن کہنے لگے کہ آج سمجھ آئی حکمران کیا ہوتا ہے .لیکن اس وقت تک وہ دو نسلیں قربان کروا چکے تھے انہی حکمرانوں کے لیے .آج بھی ہمارے ہاں جوماحول بن رہا ہے اس کو بے نقاب کرنے سے لوگ خوفزدہ ہیں .آخر یہ خوف کب تک ہمیں غلام بناے رکھے گا.آخر کب تک ٹرائبل اپروچ کے تحت کشمیری سماج میں موجود بے چینی,بے قراری اور بربریت کو قومی تحریک قرار دیتے رہیں گئے.کب تک غآصبوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھتے رہیں گئے۔

 


یہ کالم محترم آفتاب آحمد صاحب کے فیس بُک سے لیا گیا ہے جس کے لئے ہم ان کے پیشگی شکر گزار ہیں – آفتاب احمد صاحب کشمیر میں ترقی پسند سیاست کے ساتھ ایک عرصے سے منسلک ہیں اور اس ضمن میں ان کے مشاہدات بے حد اہمیت کے حامل ہیں – اس کالم کا اوریجنل لنک یہاں کلک کر کے دیکھئیے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s